پر قینچ ، ٹانگ کھینچ

 ہمارا معاشرہ ایک پر قینچ اور ٹانگ کھینچ معاشرہ ہے۔ پر قینچ تو یوں کہ کوئی اگر اڑان بھرنا چاہے تو اس کے پر کاٹ دیے جاتے ہیں  اور ٹانگ کھینچ یوں کہ کوئی اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہو تو اس کی ٹانگ کھینچ لی جاتی ہے۔

 جیسے ایک حکایت مشہور ہے کہ کسی عقوبت خانے میں مختلف قومیت کے لوگوں کو سزا دی جا رہی تھی ،ہر ہر قوم الگ الگ گڑھے میں قید کر دی گئی ۔ہر گڑھے کے باہر ایک داروغہ بٹھا دیا گیا تاکہ کوئی بھاگنے نہ پائے ۔ایک واحد گڑھا ایسا تھا جس کے باہر کوئی داروغہ نہیں تھا ۔پوچھا گیا کہ اس گڑھے کے باہر داروغہ کیوں نہیں تو جواب ملا اس گڑھے میں پاکستانی لوگ بند ہیں ان میں کا کوئی ایک بھی اگر باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو دوسرا اس کی ٹانگ پکڑ کر کھینچ لے گا لہذا داروغہ کا یہاں کوئی کام  ہی نہیں۔اللہ اللہ خیر صلا۔


دنیادار لوگ یہ حرکتیں کریں تو سمجھ میں بھی آتا ہے کہ دنیائے ملعون  کے لیے یہ سب حرکتیں ہیں لیکن  افسوس تو اس بات کا ہے کہ جو بظاہر دیندار ہیں وہ بھی اپنے پر قینچ اور ٹانگ کھینچ مزاج کی اصلاح نہیں کرواتے بلکہ ان بد خصلتوں کو مزید پروان چڑھاتے ہیں اور اگر کہیں مقتدا یا رہنما یا سالار کارواں ہو جائیں تو وہ فساد پھیلاتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔


 اقبال نے اس فساد کی منظر کشی یوں کی ہے : 


کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے 

کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دلنوازی 


کسی بزرگ نے خوب کہا ہے کہ دین اسلام ایک محل ہے اور مسلمان اس محل کا دروازہ۔ یا تو اس کی وجہ سے لوگ محل میں داخل ہو رہے ہیں یا باہر جا رہے ہیں ۔اج کل تو ایسے دروازے بھی نظر آتے ہیں جو صرف لوگوں کو اندر سے باہر نکالنے کا کام کرتے ہیں داخلے کا نہیں ۔شرمندگی سے کہنا چاہیے کہ آج ہم اسلام کے محل کا وہی دروازہ ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے ۔آمین 


واقعہ یہ  ہے کہ مزاجاً کوئی آدمی  اگر تنگ دل و تنگ نظر  ہےاور اس نے خوش قسمتی سے کچھ دین داری اپنا لی ہے لیکن ان بد خصلتوں سے نہ توبہ کی نہ اصلاح کروائی تو ایسا ہی ہے جیسے بدچلن عورت خود کو چھپانے کے لیے پردہ کر لے ۔اب جو فساد ایسی عورت برپا کرتی ہے اور کرسکتی ہے اس کا کوئی شمار نہیں اور یہ کاغذ اس  کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بہرحال جس طرح اعلان برات ہونا چاہیے کہ پردہ حیا کی علامت ہے بد چلنی کی پناہ گاہ نہیں یہ اعلان برات بھی ہونا چاہیے کہ دین میں پر قینچ اور ٹانگ کھینچ جذبات کی کوئی جگہ نہیں۔


حسد اور بخل کے باب میں وعیدیں نازل کر کے ایسے مذموم جذبات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔رواداری ،سخاوت ، وسیع النظری ،کشادہ دلی اور تالیف قلب جیسے جذبات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔


ایک حدیث ،جو جوامع الکلم میں سے ہے، میں ارشاد ہے "الدین النصیحہ" ترجمہ: دین سراسر خیرخواہی ہے ،کسی کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر اسےیہ دعا دینے کی  تلقین آئی ہے "اضحک اللہ سنک" ترجمہ :اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے ،یہ سب باتیں دلیلیں ہیں کہ وہ دین جو کسی کے غم میں غمگین ہونا اور کسی کی خوشی میں خوش ہونا سکھاتا ہو وہ کیسے اپنے متبعین کو پرقینچ اور ٹانگ کھینچ بنا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

۔۔۔۔

جی بھی لیتے تو کب تلک جیتے


مر نہ جاتے تو مر ہی تو جاتے 


موت انوکھی تو کوئی چیز نہیں


لوٹ کے بدھو گھر ہی تو جاتے

مزید پڑھیں

مشقِ تنہائی


ایک ہے تارکِ دنیا ایک ہے متروکِ دنیا 

ایک ہے تنہا رہنا ایک ہے تنہا رہ جانا 

پیشتر اس کے کہ تنہا رہ جاۓ تنہا ہو جا

الله بھی تو تنہا ہیں تو اللہ والا ہو جا 



مزید پڑھیں

خدا نہیں ہوں- نبی نہیں ہوں میں


کبھی تو سوچ یہ بیت الخلا میں کیا ہوں میں

خدا نہیں ہوں بس اک بندۂ خدا ہوں میں 


نبی نہیں ہوں کہ منکر مرا بھی کافر ہو 

جو رد کیا مجھے تم نے تو ہنس دیا ہوں میں

مزید پڑھیں

ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی--- چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں

 

انسان کی زندگی میں کئی دوراہے اور چوراہے آتے ہیں ۔اگر جانا کہاں ہے طے نہ ہو تو ہر دوراہا موذی اور چوراہا موذی تر ہوتا جاتا ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے چل پڑنے سے اگر اذیت ہوتی ہے تو دوراہے پر دو گنا اذیت کہ کس سمت کو چلیے۔  اِس طرف یا اُس طرف اور چوراہے پر چار گنا اذیت کہ آخر جائیں تو کہاں جائیں۔ مشرق ،مغرب ،شمال کہ جنوب- اگر جانا کہاں ہے طے ہو جائے تو یہ اذیت کم ہوتی جاتی ہے - بالکل ختم تب ہوتی ہے جب آدمی جان لے مان لے اور ٹھان لے کہ یہ راہ میری راہ ہے۔ یہی راہ منزل سے ہمکنار کرے گی ،اس کے سوا کوئی چارَۂِ کار نہیں ۔ 

مزید پڑھیں

لکھا جاۓ

ممکن ہے یہاں سے دور ،بہت دور، سات سمندر پار، کوئی اجنبی آدمی آپ کی تحریر سے متاثر ہو جاۓ ،جبکہ قریب رہنے والا آپ کی ان حرکتوں کو نظرانداز کر دے اور عین ممکن ہے کہ اگر آپ کو موقعہ دیا جاۓ  اسی آدمی کو اپنی تقریر سے متاثر کرنے کا ،تو آپ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی یہ معرکہ سر نہ کر سکیں -یہ تو بات ہو گئی مکان کی -

ممکن ہے یہی صورتِ واقعہ زمان میں بھی رونما ہو جاۓ اور مستقبل قریب یا بعید میں، آپ کے مرنے کے بعد ،آپ کی تحریر کسی کو متاثر کرے خواہ وہ  آپ سے متعلق ہو یا نہ ہو -الغرض لکھا جاۓ اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا لکھا جاۓ تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ لکھ دیا جاۓ ہر اس بات کو جو قلمبند کی جا سکے خواہ آج  اور یہاں کسی کو متاثر کرے یا نہ کرے -


لکھا جاۓ ،بالفرض یہ لکھنا کسی کو بھی نہ بھاۓ ،تب بھی یہ فائدہ کیا کم ہے کہ آپ کا لکھ کر من ہلکا ہوگیا -آپ کی ذات کا کتھارسس ہوگیا -وہ بھڑاس جو آپ کسی کو سخت سست کہہ کر نکالنے والے تھے، وہ ایک تعمیری اور تخلیقی سرگرمی میں تبدیل ہوگئی -کوئی پڑھے نہ پڑھے،دیکھے نہ دیکھے، لکھا جاۓ تاکہ یادیں محفوظ ہوں، سوچیں سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں -


ایک عجیب واقعہ ہوا جو اس تحریر کا محرک ہوا کہ میرے ایک دیرینہ دوست  نے، جس  کی ہر غیر دلچسپ بات میں نہایت دلچسپی سے سنتا ہوں ،ارشاد فرمایا کہ تم بہت مشکل باتیں کرتے ہو جو لایعنی اور فضول بھی ہوتی ہیں -میں نے اس کے فرمانِ عالیشان سے یہ سبق لیا کہ  کاغذ  قلم اٹھا کر لکھنا شروع کر دیا اور پڑھنے والوں کو بھی درس دیا کہ لکھا جاۓ -


یہ لکھائی کیا ہے ،خط ہیں آگے مکانوں کے نام ،آئندہ زمانوں کے نام ،ایک گمنام لکڑ دادا کے خط آنے والی نسلوں کے نام 
مزید پڑھیں

-مقتل میں مسیحائی



 مرنے والوں کی زندگی کے لیے 

کام ہم سے جو بن پڑے وہ کیے 


زخم اپنے تو  بھرنے والے نہ تھے 

لیکن اوروں کے زخم خوب سیے 


ہم نے مقتل میں کی مسیحائی 

اپنا کیا ہے جیے جیے نہ جیے 

مزید پڑھیں

سبیلنا سبیلنا


سرمایۂ حیات ہے ہونٹوں پہ تیرا نام

پروانہ ٔنجات ہے دل میں تمھاری یاد

عاشق بھی کیا وہ یاد پہ کر لے جو اکتفا

ہے وصل کی سبیل مرا جذبۂ جہاد​


مزید پڑھیں

كل نفس ذائقة الموت

 ہر نفس نے جو موت کا چکھنا ہے ذائقہ

ہو جائیں ہم شہید تو کیا ہے مضائقہ

اے کاش حنظلہؓ سا ہمارا بھی بخت ہو

اے کاش غسل دیں ہمیں آ کر ملائکہ


مزید پڑھیں

تلخ حقیقت

موسیقی و مے نوشی و ہنگامہ و تفریح

اک تلخ حقیقت کو بھلانے کے لیے ہیں

وہ تلخ حقیقت کہ جو کھل جائے گی اک روز

دنیا میں تو ہم آئے ہی جانے کے لیے ہیں​


مزید پڑھیں

جہلِ لاجواب

قیاسی بات کو باشدّومد کہا جائے

عجب نہیں اِسے ہی مستندکہا جائے

ستارے کتنے ہیں،کچھ بھی کہیں ،گنے گا کون

غلط نہ ہوگا بڑاجو عدد کہا جائے​


مزید پڑھیں

میرےعزیز ہموطنو !

 مشرّف کر نہیں سکتی بشر کو محض انگریزی

جدا ہو دین جنرل سے تو رہ جاتی ہے پرویزی

بوقتِ نزع کام آئی کہاں وہ طبع کی تیزی

کُھلا ،زورِ خطابت کچھ نہ تھا جُز سحر انگیزی ​


مزید پڑھیں

یہ فاختائیں....

 

یہ فاختائیں بطّخیں اور تیتروں کے غول

پیدا ہوئے ہیں کیا تری بندوق کے لیے

کامل سعید پور کے بے تاج بادشاہ

چھوٹے ہیں ہم بھی تو کسی مخلوق کے لیے


مزید پڑھیں

تصویر خوبصورت ہے

  "وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ"

نہ بھی ہو رنگ تو تصویر خوبصورت ہے 

چھپا کے نقشِ مصوّر جو شکل ابھری ہے 

یہ رنگا رنگئ حاضر بلا ضرورت ہے ​


مزید پڑھیں

ہر دلعزیزی

ہردلعزیز وہ بنے جس کا ہو کاروبار

 ہم دوست اتنے رکھتے ہیں جن سےنبھا سکیں

  مشکل پڑے جو ان پہ تو ہم کام آ سکیں

گر کام بھی نہ آسکیں منھ تو چھپا سکیں  


مزید پڑھیں

دل- رونقِ محفل

یہ سکڑنا پھیلنا جو دل کا ہے

اس سے ہی ہنگامہ کُل محفل کا ہے  

 حرکتِ دل بند اور ہنگامہ ختم 

کام پھر دل کا وہی قاتل کا ہے  

مزید پڑھیں

بائیکاٹ


جب بھائی کٹ رہے ہوں تو بنتا ہے بائیکاٹ

دیں قاتلوں کو شہ جو ان اشیا سے بائیکاٹ

بالفرض بائیکاٹ سے حسنِ جہاں ہو ماند

پیارے نہ ہوں تو چاہیے دنیا سے بائیکاٹ

دنیا وہ رانڈ ہے جو کسی کی نہ ہو سکی

ہر دل عزیز ایسی عزیزہ سے بائیکاٹ











مزید پڑھیں

امّتی آپ کا ہرجائی نہیں ہو سکتا

 امّتی آپ کا ہرجائی نہیں ہو سکتا

 (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) 

عاصی ہو سکتا ہے مرزائی نہیں ہوسکتا

مر تو سکتا ہے کوئی آپ سے منھ پھیر کے پر 

(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) 

زن ودولت کا تمنّائی نہیں ہو سکتا

جوہوامعنوی اولادغلام احمد کی

وہ حرامی کسی کابھائی نہیں ہوسکتا


مزید پڑھیں

نبی کی محبّت میں..


 نبی کی محبّت میں اے میرے بھیّا !

(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) 

سڑک پر جلا تو دیا تو نے پہیّہ 

 نہیں گر اطاعت کا ان کی تہیّہ 

(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)   

تو یہ توڑ پھوڑ احتجاجی رویّہ

جلایا ہے تو نے تو اپنا روپیّہ

ڈبوئی ہے تو نے بس اپنی ہی نیّا


مزید پڑھیں

رائیگانی


عمر جب رائیگاں گزرتی ہے 

پوچھیے مت کہاں گزرتی ہے 

یہ بھی مت پوچھیےکہ کیسے ہیں آپ  

بات یہ بھی گراں گزرتی ہے


مزید پڑھیں