-مقتل میں مسیحائی
مرنے والوں کی زندگی کے لیے
کام ہم سے جو بن پڑے وہ کیے
زخم اپنے تو بھرنے والے نہ تھے
لیکن اوروں کے زخم خوب سیے
ہم نے مقتل میں کی مسیحائی
اپنا کیا ہے جیے جیے نہ جیے
مرنے والوں کی زندگی کے لیے
کام ہم سے جو بن پڑے وہ کیے
زخم اپنے تو بھرنے والے نہ تھے
لیکن اوروں کے زخم خوب سیے
ہم نے مقتل میں کی مسیحائی
اپنا کیا ہے جیے جیے نہ جیے
سرمایۂ حیات ہے ہونٹوں پہ تیرا نام
پروانہ ٔنجات ہے دل میں تمھاری یاد
عاشق بھی کیا وہ یاد پہ کر لے جو اکتفا
ہے وصل کی سبیل مرا جذبۂ جہاد
ہر نفس نے جو موت کا چکھنا ہے ذائقہ
ہو جائیں ہم شہید تو کیا ہے مضائقہ
اے کاش حنظلہؓ سا ہمارا بھی بخت ہو
اے کاش غسل دیں ہمیں آ کر ملائکہ
موسیقی و مے نوشی و ہنگامہ و تفریح
اک تلخ حقیقت کو بھلانے کے لیے ہیں
وہ تلخ حقیقت کہ جو کھل جائے گی اک روز
دنیا میں تو ہم آئے ہی جانے کے لیے ہیں
قیاسی بات کو باشدّومد کہا جائے
عجب نہیں اِسے ہی مستندکہا جائے
ستارے کتنے ہیں،کچھ بھی کہیں ،گنے گا کون
غلط نہ ہوگا بڑاجو عدد کہا جائے
مشرّف کر نہیں سکتی بشر کو محض انگریزی
جدا ہو دین جنرل سے تو رہ جاتی ہے پرویزی
بوقتِ نزع کام آئی کہاں وہ طبع کی تیزی
کُھلا ،زورِ خطابت کچھ نہ تھا جُز سحر انگیزی
یہ فاختائیں بطّخیں اور تیتروں کے غول
پیدا ہوئے ہیں کیا تری بندوق کے لیے
کامل سعید پور کے بے تاج بادشاہ
چھوٹے ہیں ہم بھی تو کسی مخلوق کے لیے
"وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ"
نہ بھی ہو رنگ تو تصویر خوبصورت ہے
چھپا کے نقشِ مصوّر جو شکل ابھری ہے
یہ رنگا رنگئ حاضر بلا ضرورت ہے
ہردلعزیز وہ بنے جس کا ہو کاروبار
ہم دوست اتنے رکھتے ہیں جن سےنبھا سکیں
مشکل پڑے جو ان پہ تو ہم کام آ سکیں
گر کام بھی نہ آسکیں منھ تو چھپا سکیں
یہ سکڑنا پھیلنا جو دل کا ہے
اس سے ہی ہنگامہ کُل محفل کا ہے
حرکتِ دل بند اور ہنگامہ ختم
کام پھر دل کا وہی قاتل کا ہے
جب بھائی کٹ رہے ہوں تو بنتا ہے بائیکاٹ
دیں قاتلوں کو شہ جو ان اشیا سے بائیکاٹ
بالفرض بائیکاٹ سے حسنِ جہاں ہو ماند
پیارے نہ ہوں تو چاہیے دنیا سے بائیکاٹ
دنیا وہ رانڈ ہے جو کسی کی نہ ہو سکی
ہر دل عزیز ایسی عزیزہ سے بائیکاٹ
امّتی آپ کا ہرجائی نہیں ہو سکتا
(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)
عاصی ہو سکتا ہے مرزائی نہیں ہوسکتا
مر تو سکتا ہے کوئی آپ سے منھ پھیر کے پر
(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)
زن ودولت کا تمنّائی نہیں ہو سکتا
جوہوامعنوی اولادغلام احمد کی
وہ حرامی کسی کابھائی نہیں ہوسکتا
نبی کی محبّت میں اے میرے بھیّا !
(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)
سڑک پر جلا تو دیا تو نے پہیّہ
نہیں گر اطاعت کا ان کی تہیّہ
(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)
تو یہ توڑ پھوڑ احتجاجی رویّہ
جلایا ہے تو نے تو اپنا روپیّہ
ڈبوئی ہے تو نے بس اپنی ہی نیّا
عمر جب رائیگاں گزرتی ہے
پوچھیے مت کہاں گزرتی ہے
یہ بھی مت پوچھیےکہ کیسے ہیں آپ
بات یہ بھی گراں گزرتی ہے
اشراق سے ملی نہ مجھے چاشت سے ملی
ایمان کی مٹھاس جو برداشت سے ملی
پھر پھر کے ڈھونڈتا تھا جسے کائنات میں
دولت وہ مجھ کو دل کی نگہداشت سے ملی
قریب از رگِ جاں میرے حامی و ناصر !
میں ایک بندۂ عاصی ہوں آپ کا یاسر
ہے اعتراف مجھے "ربنا ظلمنا" کا
نہ کیجیو تو "من الخاسرین" اک خاسر
ہم باز تکبّر سے آۓ بھی تو کب آۓ
مرنے کے قریں تھے جب اور ملنے کو سب آۓ
جب گاف لگی پھٹنے خیرات لگی بٹنے
جب مرنے لگے ہاۓ سب جینے کے ڈھب آۓ
بے وفاؤں کی بھی امیدِ وفا آپ ہی ہیں
میں گنہگار ہوں میرے بھی خدا آپ ہی ہیں
سب طبیبوں نے دیا مجھ کو جواب آخرِ کار
اب طبیب آپ دوا آپ شفا آپ ہی ہیں