یادیں ، یادگاریں ، یادداشتیں اور یاددہانیاں
یہ سکڑنا پھیلنا جو دل کا ہے
اس سے ہی ہنگامہ کُل محفل کا ہے
حرکتِ دل بند اور ہنگامہ ختم
کام پھر دل کا وہی قاتل کا ہے