انتقالِ پر مسرت و پرملال



آپ نے انتقالِ پر ملال تو سنا ہی ہوگا،ہم لوگوں کا انتقال پر مسرت اور پر ملال دونوں ہیں کیونکہ ہم سب چار برس بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں جس پر ہم خوش بھی ہیں اور ملول بھی ۔

خوش یوں کہ یہی غالب گمان ہے کہ وہ جگہ جہاں ہم جا رہے ہیں اس سے بہتر ہے اور ملول یوں کہ چار برس کی یادیں انھی در و بام انھی در و دیوار  ، انھی گلیوں اور انھی چوباروں سے جڑی ہیں ۔خواہ وہ یادیں تلخ ہوں کہ شیریں بہرحال "دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں "۔
انس ومحبت محض جاندار سے نہیں بلکہ بے جان چیزوں سے بھی ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی بے جان چیزوں کو بھی آپ سے محبّت ہو جاتی ہے - بے جان بھی کیوں کہ ہر بے جان چیز میں یک گونہ جان ہوتی ہے ۔احد پہاڑ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اور ایک کھجور کا درخت حنانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں بلک بلک کے روتا تھا ۔
پھر غالب نے قیس مجنوں کے بارے میں کیا اچھا کہا :

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد 
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

مکان کو مکین سے محبّت ہو نہ ہو لیکن فطرت انساں اپنے ماحول و مکاں سے متاثر ضرور ہوتی ہے اسی نکتے کو تبلیغ والے بھی دہراتے ہیں اور ماحول بدلنے کی ترغیب دیتے ہیں -

یہاں فیض کی ایک نظم یاد آرہی ہے جس میں انھوں نے ترکی کے ایک شاعر کی ترجمانی کی ہے :

زنداں سے ایک خط

مری جاں تجھ کو بتلاؤں، بہت نازک یہ نکتہ ہے
بدل جاتا ہے انساں جب مکاں اس کا بدلتا ہے
مجھے زنداں میں پیار آنے لگا ہے اپنے خوابوں پر
جو شب کو نیند اپنے مہرباں ہاتھوں سے
وا کرتی ہے در اس کا
تو آ گرتی ہے ہر دیوار اس کی میرے قدموں پر
میں ایسے غرق ہو جاتا ہوں اس دم اپنے خوابوں میں
کہ جیسے اِک کرن ٹھہرے ہوئے پانی پہ گرتی ہے
میں ان لمحوں میں کتنا سرخوش و دل شاد پھرتا ہوں
جہاں کی جگمگاتی وسعتوں میں کس قدر آزاد پھرتا ہوں
جہاں درد و الم کا نام ہے کوئی نہ زنداں ہے
"تو پھر بیدار ہونا کس قدر تم پر گراں ہوگا؟"
نہیں ایسا نہیں ہے، میری جاں! میرا یہ قصّہ ہے
میں اپنے عزم و ہمت سے
وہی کچھ بخشتا ہوں نیند کو جو اس کا حصّہ ہے


اور پھر ماضی قریب میں تقریباً  پانچ گھر میں بدل چکا ہوں -یوں دربدری اور وطن بدری کا احساس ایک سا لگتا ہے اور فیض کی نظم "مرے دل مرے مسافر" بھی یاد آجاتی ہے :

مرے دل ، مرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن دربدرہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رُخ نگر نگر کا
کہ سُراغ کوئی پائیں
کسی یار نامہ بر کا
ہر ایک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سرِ کوئے ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے ؟
شبِ غم بُری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا ! ​