برداشت

 اشراق سے ملی نہ مجھے چاشت سے ملی

ایمان کی مٹھاس جو برداشت سے ملی

پھر پھر کے ڈھونڈتا تھا جسے کائنات میں

دولت وہ مجھ کو دل کی نگہداشت سے ملی​