یادیں ، یادگاریں ، یادداشتیں اور یاددہانیاں
جی بھی لیتے تو کب تلک جیتے
مر نہ جاتے تو مر ہی تو جاتے
موت انوکھی تو کوئی چیز نہیں
لوٹ کے بدھو گھر ہی تو جاتے