لکھا جاۓ

ممکن ہے یہاں سے دور ،بہت دور، سات سمندر پار، کوئی اجنبی آدمی آپ کی تحریر سے متاثر ہو جاۓ ،جبکہ قریب رہنے والا آپ کی ان حرکتوں کو نظرانداز کر دے اور عین ممکن ہے کہ اگر آپ کو موقعہ دیا جاۓ  اسی آدمی کو اپنی تقریر سے متاثر کرنے کا ،تو آپ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی یہ معرکہ سر نہ کر سکیں -یہ تو بات ہو گئی مکان کی -

ممکن ہے یہی صورتِ واقعہ زمان میں بھی رونما ہو جاۓ اور مستقبل قریب یا بعید میں، آپ کے مرنے کے بعد ،آپ کی تحریر کسی کو متاثر کرے خواہ وہ  آپ سے متعلق ہو یا نہ ہو -الغرض لکھا جاۓ اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا لکھا جاۓ تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ لکھ دیا جاۓ ہر اس بات کو جو قلمبند کی جا سکے خواہ آج  اور یہاں کسی کو متاثر کرے یا نہ کرے -


لکھا جاۓ ،بالفرض یہ لکھنا کسی کو بھی نہ بھاۓ ،تب بھی یہ فائدہ کیا کم ہے کہ آپ کا لکھ کر من ہلکا ہوگیا -آپ کی ذات کا کتھارسس ہوگیا -وہ بھڑاس جو آپ کسی کو سخت سست کہہ کر نکالنے والے تھے، وہ ایک تعمیری اور تخلیقی سرگرمی میں تبدیل ہوگئی -کوئی پڑھے نہ پڑھے،دیکھے نہ دیکھے، لکھا جاۓ تاکہ یادیں محفوظ ہوں، سوچیں سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں -


ایک عجیب واقعہ ہوا جو اس تحریر کا محرک ہوا کہ میرے ایک دیرینہ دوست  نے، جس  کی ہر غیر دلچسپ بات میں نہایت دلچسپی سے سنتا ہوں ،ارشاد فرمایا کہ تم بہت مشکل باتیں کرتے ہو جو لایعنی اور فضول بھی ہوتی ہیں -میں نے اس کے فرمانِ عالیشان سے یہ سبق لیا کہ  کاغذ  قلم اٹھا کر لکھنا شروع کر دیا اور پڑھنے والوں کو بھی درس دیا کہ لکھا جاۓ -


یہ لکھائی کیا ہے ،خط ہیں آگے مکانوں کے نام ،آئندہ زمانوں کے نام ،ایک گمنام لکڑ دادا کے خط آنے والی نسلوں کے نام